دیکھ بنیاد رب کی آدم ہے
جان لے گا اگر تو محرم ہے
سب صفت اوس کی دیکھ لے ان میں
کہہ تو بندہ خدا سے کیا کم ہے
ہر نفس کیوں کہیں ہیں صاحب دم
کہ جہاں بیچ عمر دو دم ہے
پاس ہے اور نظر نہیں آتا
میرے وحشی میں اس قدر رم ہے
تیرے بندے ہیں سب ولے سب میں
بندۂ کمترین حاتمؔ ہے
غزل
دیکھ بنیاد رب کی آدم ہے
شیخ ظہور الدین حاتم

