EN हिंदी
چلے لے کے سر پر گناہوں کی گٹھری | شیح شیری
chale le ke sar par gunahon ki gaThri

غزل

چلے لے کے سر پر گناہوں کی گٹھری

مصحفی غلام ہمدانی

;

چلے لے کے سر پر گناہوں کی گٹھری
سفر میں یہ ہے رو سیاہوں کی گٹھری

پڑی روز محشر وہیں برق آ کر
جہاں تھی ترے دادخواہوں کی گٹھری

مسافر میں اس دشت کا ہوں کہ جس میں
لٹی کتنے گم کردہ راہوں کی گٹھری

جہاں سوس نے بحر سے سر نکالا
میں سمجھا ہے کشتی تباہوں کی گٹھری

کلاہ زری ماہ نو نے اڑا لی
کھلی تھی کہیں کج کلاہوں کی گٹھری

ہم ان سرقہ والوں میں اے مصحفیؔ ہیں
چراتے ہیں جو بادشاہوں کی گٹھری