EN हिंदी
بے دلی وہ ہے کہ مرنے کی تمنا بھی نہیں | شیح شیری
be-dili wo hai ki marne ki tamanna bhi nahin

غزل

بے دلی وہ ہے کہ مرنے کی تمنا بھی نہیں

سجاد باقر رضوی

;

بے دلی وہ ہے کہ مرنے کی تمنا بھی نہیں
اور جی لیں کسی امید پہ ایسا بھی نہیں

نہ کوئی سر کو ہے سودا نہ کوئی سنگ سے لاگ
کوئی پوچھے تو کچھ ایسا غم دنیا بھی نہیں

وقت وہ ہے کہ جبیں لے کے کرو در کی تلاش
عجب آشفتہ سری ہے کہ تماشا بھی نہیں

اپنے آئینے میں خود اپنی ہی صورت ہوئی مسخ
مگر اس ٹوٹے ہوئے دل کا مداوا بھی نہیں

ہو کا عالم ہے کوئی نعرۂ مستانۂ حق
کیا تری بزم وفا میں کوئی اتنا بھی نہیں

لفظ و معنی میں نہیں ربط مگر ہائے امید
اس پہ بیٹھے ہیں کہ وہ ٹالنے والا بھی نہیں

بے خودی ہائے تمنا کی نہ تھی فرصت وہم
بے کسی ہائے تماشا کہ کوئی تھا بھی نہیں

پھول بن کر جو مہکتا تھا کبھی دل کے قریب
خار بن کر کبھی پہلو میں کھٹکتا بھی نہیں

تم بھی کہلاتے ہو دامن کش دنیا باقرؔ
سچ تو یہ ہے تمہیں جینے کا سلیقہ بھی نہیں