EN हिंदी
عارض روشن پہ جب زلفیں پریشاں ہو گئیں | شیح شیری
aariz-e-raushan pe jab zulfen pareshan ho gain

غزل

عارض روشن پہ جب زلفیں پریشاں ہو گئیں

اسماعیلؔ میرٹھی

;

عارض روشن پہ جب زلفیں پریشاں ہو گئیں
کفر کی گمراہیاں ہم رنگ ایماں ہو گئیں

زلف دیکھی اس کی جن قوموں نے وہ کافر بنیں
رخ نظر آیا جنہیں وہ سب مسلماں ہو گئیں

خود فروشی حسن کو جب سے ہوئی مد نظر
نرخ دل بھی گھٹ گیا جانیں بھی ارزاں ہو گئیں

جو بنائیں تھیں کبھی ایوان کسریٰ کا جواب
گردش افلاک سے گرد بیاباں ہو گئیں

خوف ناکامی ہے جب تک کامیابی ہے محال
مشکلیں جب بندھ گئیں ہمت سب آساں ہو گئیں

ہائے کس کو روئیے اور کس کی خاطر پیٹئے
کیسی کیسی صورتیں نظروں سے پنہاں ہو گئیں

کیا انہیں اندوہ ہنگام سحر یاد آ گیا
شام ہی سے بزم میں شمعیں جو گریاں ہو گئیں

اک فرشتے بھی تو ہیں جن کو نہ محنت ہے نہ رنج
خواہشیں دل کی بلائے جان انساں ہو گئیں

کیا ہے وہ جان مجسم جس کے شوق دید میں
جامۂ تن پھینک کر روحیں بھی عریاں ہو گئیں

تھی وہ توفیق الٰہی میں نے سمجھا اپنا فعل
طاعتیں بھی میرے حق میں عین عصیاں ہو گئیں