EN हिंदी
کھوسشی شیاری | شیح شیری

کھوسشی

55 شیر

خموش رہنے کی عادت بھی مار دیتی ہے
تمہیں یہ زہر تو اندر سے چاٹ جائے گا

عابد خورشید




دور خاموش بیٹھا رہتا ہوں
اس طرح حال دل کا کہتا ہوں

آبرو شاہ مبارک




شور سا ایک ہر اک سمت بپا لگتا ہے
وہ خموشی ہے کہ لمحہ بھی صدا لگتا ہے

عدیم ہاشمی




ہم نے اول تو کبھی اس کو پکارا ہی نہیں
اور پکارا تو پکارا بھی صداؤں کے بغیر

احمد عطا




چپ چاپ اپنی آگ میں جلتے رہو فرازؔ
دنیا تو عرض حال سے بے آبرو کرے

احمد فراز




میں تیرے کہے سے چپ ہوں لیکن
چپ بھی تو بیان مدعا ہے

احمد ندیم قاسمی




بول پڑتا تو مری بات مری ہی رہتی
خامشی نے ہیں دئے سب کو فسانے کیا کیا

اجمل صدیقی