اسے بتایا نہیں ہجر میں جو حال ہوا
جو بات سب سے ضروری تھی وہ چھپا گیا ہوں
عرفان ستار
وہ جس نے مجھ کو ترے ہجر میں بحال رکھا
تو آ گیا ہے تو کیا اس سے بے وفا ہو جاؤں
عرفان ستار
یہاں جو ہے کہاں اس کا نشاں باقی رہے گا
مگر جو کچھ نہیں وہ سب یہاں باقی رہے گا
عرفان ستار
یہ کیسے ملبے کے نیچے دبا دیا گیا ہوں
مجھے بدن سے نکالو میں تنگ آ گیا ہوں
عرفان ستار
یہ عمر کی ہے بسر کچھ عجب توازن سے
ترا ہوا نہ ہی خود سے نباہ میں نے کیا
عرفان ستار
یونہی رکا تھا دم لینے کو، تم نے کیا سمجھا؟
ہار نہیں مانی تھی بس سستانے بیٹھا تھا
عرفان ستار
ذرا اہل جنوں آؤ، ہمیں رستہ سجھاؤ
یہاں ہم عقل والوں کا خدا گم ہو گیا ہے
عرفان ستار

