EN हिंदी
تعشق لکھنوی شیاری | شیح شیری

تعشق لکھنوی شیر

29 شیر

نجد سے جانب لیلیٰ جو ہوا آتی ہے
دل مجنوں کے دھڑکنے کی صدا آتی ہے

تعشق لکھنوی




منتظر تیرے ہیں چشم خوں فشاں کھولے ہوئے
بیٹھے ہیں دل بیچنے والے دکاں کھولے ہوئے

تعشق لکھنوی




مجھے ہے فکر خط بھیجا ہے جب سے اس گل تر کو
ہزاروں بلبلیں روکیں گی رسی میں کبوتر کو

تعشق لکھنوی




مجھ سے لاکھوں خاک کے پتلے بنا سکتا ہے تو
میں کہاں سے ایک تیرا سا خدا پیدا کروں

تعشق لکھنوی




مجھ سے کیا پوچھتے ہو داغ ہیں دل میں کتنے
تم کو ایام جدائی کا شمار آتا ہے

تعشق لکھنوی




موج دریا سے بلا کی چاہئے کشتی مجھے
ہو جو بالکل نا موافق وہ ہوا پیدا کروں

تعشق لکھنوی




آمد آمد ہے خزاں کی جانے والی ہے بہار
روتے ہیں گل زار کے در باغباں کھولے ہوئے

تعشق لکھنوی




کبھی تو شہیدوں کی قبروں پہ آؤ
یہ سب گھر تمہارے بسائے ہوئے ہیں

تعشق لکھنوی




جس طرف بیٹھتے تھے وصل میں آپ
اسی پہلو میں درد رہتا ہے

تعشق لکھنوی