EN हिंदी
سرفراز خالد شیاری | شیح شیری

سرفراز خالد شیر

47 شیر

پیروں سے باندھ لیتا ہوں پچھلی مسافتیں
تنہا کسی سفر پہ نکلتا نہیں ہوں میں

سرفراز خالد




سنتے ہیں بیاباں بھی کبھی شہر رہا تھا
سو شہر بھی اک روز بیابان رہے گا

سرفراز خالد




سیاہ رات کے پہلو میں جسم کے اندر
کسی گناہ کی خواہش کو پالتے رہنا

سرفراز خالد




ستم کئے ہیں تو کیا تجھ سے ہے حیات مری
قریب آ مری آنکھوں کے خواب، زندہ ہوں

سرفراز خالد




شریک وہ بھی رہا کاوش محبت میں
شروع اس نے کیا تھا تمام میں نے کیا

سرفراز خالد




رونق بزم نہیں تھا کوئی تجھ سے پہلے
رونق بزم ترے بعد نہیں ہے کوئی

سرفراز خالد




نہ چاند کا نہ ستاروں نہ آفتاب کا ہے
سوال اب کے مری جاں ترے جواب کا ہے

سرفراز خالد




ملتے ہو تو اب تم بھی بہت رہتے ہو خاموش
کیا تم کو بھی اب میری خبر ہونے لگی ہے

سرفراز خالد




مرے مرنے کا غم تو بے سبب ہوگا کہ اب کے بار
مرے اندر تو کوئی اور پیدا ہونے والا ہے

سرفراز خالد