تمام عمر بقید سفر رہا ہوں میں
طواف پھر کسی کعبہ کا کر رہا ہوں میں
سرفراز خالد
شریک وہ بھی رہا کاوش محبت میں
شروع اس نے کیا تھا تمام میں نے کیا
سرفراز خالد
رونق بزم نہیں تھا کوئی تجھ سے پہلے
رونق بزم ترے بعد نہیں ہے کوئی
سرفراز خالد
پیروں سے باندھ لیتا ہوں پچھلی مسافتیں
تنہا کسی سفر پہ نکلتا نہیں ہوں میں
سرفراز خالد
پانیوں میں کھیل کچھ ایسا بھی ہونا چاہئے تھا
بیچ دریا میں کوئی کشتی ڈبونا چاہئے تھا
سرفراز خالد
نہ رات باقی ہے کوئی نہ خواب باقی ہے
مگر ابھی مرے غم کا حساب کا باقی ہے
سرفراز خالد
نہ چاند کا نہ ستاروں نہ آفتاب کا ہے
سوال اب کے مری جاں ترے جواب کا ہے
سرفراز خالد
مرے مرنے کا غم تو بے سبب ہوگا کہ اب کے بار
مرے اندر تو کوئی اور پیدا ہونے والا ہے
سرفراز خالد
ملتے ہو تو اب تم بھی بہت رہتے ہو خاموش
کیا تم کو بھی اب میری خبر ہونے لگی ہے
سرفراز خالد

