مزا پڑا ہے قناعت کا عہد طفلی سے
میں سیر ہو کے نہ پیتا تھا شیر مادر کو
رند لکھنوی
پھیر لاتا ہے خط شوق مرا ہو کے تباہ
ذبح کر ڈالوں گا اب کی جو کبوتر بہکا
رند لکھنوی
پروں کو کھول دے ظالم جو بند کرتا ہے
قفس کو لے کے میں اڑ جاؤں گا کہاں صیاد
رند لکھنوی
پاس دیں کفر میں بھی تھا ملحوظ
بت کو پوجا خدا خدا کر کے
رند لکھنوی
پاؤں کے ہاتھ سے گردش ہی رہی مجھ کو مدام
چاک کی طرح سے کس روز مرا سر نہ پھرا
رند لکھنوی
ناز بے جا اٹھائیے کس سے
اب نہ وہ دل نہ وہ دماغ رہا
رند لکھنوی
مژدہ باد اے بادہ خوارو دور واعظ ہو چکا
مدرسے کھودے گئے تعمیر مے خانہ ہوا
رند لکھنوی
لائے گی گردش میں تجھ کو بھی مری آوارگی
کو بہ کو میں ہوں تو تو بھی در بدر ہو جائے گا
رند لکھنوی
لیلیٰ مجنوں کا رٹتی ہے نام
دیوانی ہوئی ہے بک رہی ہے
رند لکھنوی

