رسوا کرے گی دیکھ کے دنیا مجھے قمرؔ
اس چاندنی میں ان کو بلانے کو جائے کون
قمر جلالوی
نشیمن خاک ہونے سے وہ صدمہ دل کو پہنچا ہے
کہ اب ہم سے کوئی بھی روشنی دیکھی نہیں جاتی
قمر جلالوی
شکریہ اے قبر تک پہنچانے والو شکریہ
اب اکیلے ہی چلے جائیں گے اس منزل سے ہم
قمر جلالوی
سنا ہے غیر کی محفل میں تم نہ جاؤ گے
کہو تو آج سجا لوں غریب خانے کو
قمر جلالوی
سرمے کا تل بنا کے رخ لا جواب میں
نقطہ بڑھا رہے ہو خدا کی کتاب میں
قمر جلالوی
تیرے قربان قمرؔ منہ سر گلزار نہ کھول
صدقے اس چاند سی صورت پہ نہ ہو جائے بہار
قمر جلالوی
وہ چار چاند فلک کو لگا چلا ہوں قمرؔ
کہ میرے بعد ستارے کہیں گے افسانے
قمر جلالوی
یہی ہے گر خوشی تو رات بھر گنتے رہو تارے
قمرؔ اس چاندنی میں ان کا اب آنا تو کیا ہوگا
قمر جلالوی
ضبط کرتا ہوں تو گھٹتا ہے قفس میں مرا دم
آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے
قمر جلالوی

