مجھ جیسا اک آدمی میرا ہی ہم نام
الٹا سیدھا وہ چلے مجھے کرے بد نام
ندا فاضلی
کچھ طبیعت ہی ملی تھی ایسی چین سے جینے کی صورت نہ ہوئی
جس کو چاہا اسے اپنا نہ سکے جو ملا اس سے محبت نہ ہوئی
ندا فاضلی
میں بھی تو بھی یاتری چلتی رکتی ریل
اپنے اپنے گاؤں تک سب کا سب سے میل
ندا فاضلی
میں رویا پردیس میں بھیگا ماں کا پیار
دکھ نے دکھ سے بات کی بن چٹھی بن تار
ندا فاضلی
میری غربت کو شرافت کا ابھی نام نہ دے
وقت بدلا تو تری رائے بدل جائے گی
ندا فاضلی
مرے بدن میں کھلے جنگلوں کی مٹی ہے
مجھے سنبھال کے رکھنا بکھر نہ جاؤں میں
ندا فاضلی
مٹھی بھر لوگوں کے ہاتھوں میں لاکھوں کی تقدیریں ہیں
جدا جدا ہیں دھرم علاقے ایک سی لیکن زنجیریں ہیں
ندا فاضلی
نقشہ لے کر ہاتھ میں بچہ ہے حیران
کیسے دیمک کھا گئی اس کا ہندوستان
ندا فاضلی
نینوں میں تھا راستہ ہردے میں تھا گاؤں
ہوئی نہ پوری یاترا چھلنی ہو گئے پاؤں
ندا فاضلی

