کار زندگانی کے شور و شر میں مدت سے
اس کو بھول جانے کا احتمال رہتا ہے
مصطفی شہاب
استعارے زمین سے جائیں
اک غزل آسمان سے اترے
مصطفی شہاب
ایسا بھی کبھی ہو میں جسے خواب میں دیکھوں
جاگوں تو وہی خواب کی تعبیر بتائے
مصطفی شہاب
ہوتے ہوتے میں پہنچ جاتا ہوں اپنے آپ تک
اس سے آگے اور کوئی راستہ جاتا نہیں
مصطفی شہاب
حقیقت کو تماشے سے جدا کرنے کی خاطر
اٹھا کر بارہا پردہ گرانا پڑ گیا ہے
مصطفی شہاب
ہم میں اور پرندوں میں فرق صرف اتنا ہے
دست و پا ملے ہم کو بال و پر پرندوں کو
مصطفی شہاب
گو ترک تعلق میں بھی شامل ہیں کئی دکھ
بے کیف تعلق کے بھی آزار بہت ہیں
مصطفی شہاب
دل سنبھالے نہیں سنبھلتا ہے
جیسے اٹھ کر ابھی گیا ہے کوئی
مصطفی شہاب
در کنج صدا بند کا کھولیں گے کسی روز
ہم لوگ جو خاموش ہیں بولیں گے کسی روز
مصطفی شہاب

