کبھی کبھی تو محبت کی زندگی کے لئے
خود ان کو ہم نے ابھارا ہے برہمی کے لئے
متین نیازی
حسن کی بے رخی کو اہل نظر
حاصل التفات کہتے ہیں
متین نیازی
ہو نہ جب تک متینؔ کیف غم
آدمی کو خدا نہیں ملتا
متین نیازی
ہم تو آشفتہ سری سے نہ سنورنے پائے
آپ سے کیوں نہ سنوارا گیا گیسو اپنا
متین نیازی
آئے تھے بے نیاز تری بارگاہ میں
جاتے ہیں اک ہجوم تمنا لیے ہوئے
متین نیازی
گلشن کے پرستارو تم کو تو پتا ہوگا
وہ کون ہیں آخر جو کلیوں کو مسلتے ہیں
متین نیازی
غم مآل غم زندگی غم دوراں
ہمارے عشق کا چرچا کہاں کہاں نہ رہا
متین نیازی
غم انساں کو سینے سے لگا لو
یہ خدمت بندگی سے کم نہیں ہے
متین نیازی
غم کی تشریح ہنسی کھیل نہیں ہے کوئی
پہلے انسان تو بن پھر یہ ہنر پیدا کر
متین نیازی

