EN हिंदी
متین نیازی شیاری | شیح شیری

متین نیازی شیر

26 شیر

رموز عشق و محبت سے آشنا ہوں میں
کسی کو غمزدہ دیکھا تو رو دیا ہوں میں

متین نیازی




ہم تو آشفتہ سری سے نہ سنورنے پائے
آپ سے کیوں نہ سنوارا گیا گیسو اپنا

متین نیازی




ہو نہ جب تک متینؔ کیف غم
آدمی کو خدا نہیں ملتا

متین نیازی




حسن کی بے رخی کو اہل نظر
حاصل التفات کہتے ہیں

متین نیازی




کبھی کبھی تو محبت کی زندگی کے لئے
خود ان کو ہم نے ابھارا ہے برہمی کے لئے

متین نیازی




خدا محفوظ رکھے انتشار رہنمائی سے
اسی منزل پہ آ کے آدمی دیوانہ ہوتا ہے

متین نیازی




متینؔ ان کا کرم واقعی کرم ہے تو پھر
یہ بے رخی یہ تغافل یہ برہمی کیا ہے

متین نیازی




یہی آئنہ ہے وہ آئینہ جو لئے ہے جلوۂ آگہی
یہ جو شاعری کا شعور ہے یہ پیمبری کی تلاش ہے

متین نیازی




زندگی کی بھی یقیناً کوئی منزل ہوگی
یہ سفر ہی کی طرح ایک سفر ہے کہ نہیں

متین نیازی