EN हिंदी
منظر لکھنوی شیاری | شیح شیری

منظر لکھنوی شیر

61 شیر

مرگ عاشق پہ فرشتہ موت کا بدنام تھا
وہ ہنسی روکے ہوئے بیٹھا تھا جس کا کام تھا

منظر لکھنوی




مجھے مٹا کے وہ یوں بیٹھے مسکراتے ہیں
کسی سے جیسے کوئی نیک کام ہو جائے

منظر لکھنوی




مدتوں بعد کبھی اے نظر آنے والے
عید کا چاند نہ دیکھا تری صورت دیکھی

منظر لکھنوی




محبت تو ہم نے بھی کی اور بہت کی
مگر حسن کو عشق کرنا نہ آیا

منظر لکھنوی




مٹانے والے ہمارا ہی گھر مٹانا تھا
چمن میں ایک سے ایک اچھا آشیانا تھا

منظر لکھنوی




مری رات کیوں کر کٹے گی الٰہی
مجھے دن کو تارے نظر آ رہے ہیں

منظر لکھنوی




مری رات کیوں کر کٹے گی الٰہی
مجھے دن کو تارے نظر آ رہے ہیں

منظر لکھنوی




مرا بیڑی پہننا تھا کہ دنیا کی ہوا بدلی
زمانے کی بہاریں پھٹ پڑیں آ کے گلستاں پر

منظر لکھنوی




کیجیے کیوں مردہ ارمانوں سے چھیڑ
سونے والوں کو تو سونے دیجیے

منظر لکھنوی