EN हिंदी
مجروح سلطانپوری شیاری | شیح شیری

مجروح سلطانپوری شیر

43 شیر

مجروحؔ قافلے کی مرے داستاں یہ ہے
رہبر نے مل کے لوٹ لیا راہزن کے ساتھ

مجروح سلطانپوری




رہتے تھے کبھی جن کے دل میں ہم جان سے بھی پیاروں کی طرح
بیٹھے ہیں انہیں کے کوچے میں ہم آج گنہ گاروں کی طرح

مجروح سلطانپوری




پارۂ دل ہے وطن کی سرزمیں مشکل یہ ہے
شہر کو ویران یا اس دل کو ویرانہ کہیں

مجروح سلطانپوری




مجھے یہ فکر سب کی پیاس اپنی پیاس ہے ساقی
تجھے یہ ضد کہ خالی ہے مرا پیمانہ برسوں سے

مجروح سلطانپوری




مجھ سے کہا جبریل جنوں نے یہ بھی وحی الٰہی ہے
مذہب تو بس مذہب دل ہے باقی سب گمراہی ہے

مجروح سلطانپوری




میرے ہی سنگ و خشت سے تعمیر بام و در
میرے ہی گھر کو شہر میں شامل کہا نہ جائے

مجروح سلطانپوری




میں کہ ایک محنت کش میں کہ تیرگی دشمن
صبح نو عبارت ہے میرے مسکرانے سے

مجروح سلطانپوری




کچھ بتا تو ہی نشیمن کا پتا
میں تو اے باد صبا بھول گیا

مجروح سلطانپوری




میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

مجروح سلطانپوری