روک سکتا ہمیں زندان بلا کیا مجروحؔ
ہم تو آواز ہیں دیوار سے چھن جاتے ہیں
مجروح سلطانپوری
مجھے یہ فکر سب کی پیاس اپنی پیاس ہے ساقی
تجھے یہ ضد کہ خالی ہے مرا پیمانہ برسوں سے
مجروح سلطانپوری
مجھ سے کہا جبریل جنوں نے یہ بھی وحی الٰہی ہے
مذہب تو بس مذہب دل ہے باقی سب گمراہی ہے
مجروح سلطانپوری
میرے ہی سنگ و خشت سے تعمیر بام و در
میرے ہی گھر کو شہر میں شامل کہا نہ جائے
مجروح سلطانپوری
مجروحؔ قافلے کی مرے داستاں یہ ہے
رہبر نے مل کے لوٹ لیا راہزن کے ساتھ
مجروح سلطانپوری
مجروحؔ لکھ رہے ہیں وہ اہل وفا کا نام
ہم بھی کھڑے ہوئے ہیں گنہ گار کی طرح
مجروح سلطانپوری
میں کہ ایک محنت کش میں کہ تیرگی دشمن
صبح نو عبارت ہے میرے مسکرانے سے
مجروح سلطانپوری
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
مجروح سلطانپوری
کچھ بتا تو ہی نشیمن کا پتا
میں تو اے باد صبا بھول گیا
مجروح سلطانپوری

