EN हिंदी
خلیلؔ الرحمن اعظمی شیاری | شیح شیری

خلیلؔ الرحمن اعظمی شیر

54 شیر

نہ جانے کس کی ہمیں عمر بھر تلاش رہی
جسے قریب سے دیکھا وہ دوسرا نکلا

خلیلؔ الرحمن اعظمی




تیرے نہ ہو سکے تو کسی کے نہ ہو سکے
یہ کاروبار شوق مکرر نہ ہو سکا

خلیلؔ الرحمن اعظمی




تمام یادیں مہک رہی ہیں ہر ایک غنچہ کھلا ہوا ہے
زمانہ بیتا مگر گماں ہے کہ آج ہی وہ جدا ہوا ہے

خلیلؔ الرحمن اعظمی




سنا رہا ہوں انہیں جھوٹ موٹ اک قصہ
کہ ایک شخص محبت میں کامیاب رہا

خلیلؔ الرحمن اعظمی




نکالے گئے اس کے معنی ہزار
عجب چیز تھی اک مری خامشی

خلیلؔ الرحمن اعظمی




نگاہ مہرباں اٹھتی تو ہے سب کی طرف لیکن
نہیں واقف ابھی سب لوگ رمز آشنائی سے

خلیلؔ الرحمن اعظمی




نہیں اب کوئی خواب ایسا تری صورت جو دکھلائے
بچھڑ کر تجھ سے کس منزل پر ہم تنہا چلے آئے

خلیلؔ الرحمن اعظمی




میں کہاں ہوں کچھ بتا دے زندگی اے زندگی!
پھر صدا اپنی سنا دے زندگی اے زندگی!

خلیلؔ الرحمن اعظمی




میرے دشمن نہ مجھ کو بھول سکے
ورنہ رکھتا ہے کون کس کو یاد

خلیلؔ الرحمن اعظمی