تیری گلی سے چھٹ کے نہ جائے اماں ملی
اب کے تو میرا گھر بھی مرا گھر نہ ہو سکا
خلیلؔ الرحمن اعظمی
نہیں اب کوئی خواب ایسا تری صورت جو دکھلائے
بچھڑ کر تجھ سے کس منزل پر ہم تنہا چلے آئے
خلیلؔ الرحمن اعظمی
نہ جانے کس کی ہمیں عمر بھر تلاش رہی
جسے قریب سے دیکھا وہ دوسرا نکلا
خلیلؔ الرحمن اعظمی
نہ چاہو تم تو ہر اک گام کتنی دیواریں
جو چاہو تم تو ملن کی ہزار صورت ہے
خلیلؔ الرحمن اعظمی
مری نظر میں وہی موہنی سی مورت ہے
یہ رات ہجر کی ہے پھر بھی خوبصورت ہے
خلیلؔ الرحمن اعظمی
میرؔ کا طرز اپنایا سب نے لیکن یہ انداز کہاں
اعظمیؔ صاحب آپ کی غزلیں سن سن کر سب حیراں ہیں
خلیلؔ الرحمن اعظمی
میرے دشمن نہ مجھ کو بھول سکے
ورنہ رکھتا ہے کون کس کو یاد
خلیلؔ الرحمن اعظمی
میں کہاں ہوں کچھ بتا دے زندگی اے زندگی!
پھر صدا اپنی سنا دے زندگی اے زندگی!
خلیلؔ الرحمن اعظمی
میں اپنے گھر کو بلندی پہ چڑھ کے کیا دیکھوں
عروج فن مری دہلیز پر اتار مجھے
خلیلؔ الرحمن اعظمی

