EN हिंदी
جمیل الدین عالی شیاری | شیح شیری

جمیل الدین عالی شیر

29 شیر

پہلے کبھی نہیں گزری تھی جو گزری اس شام
سب کچھ بھول چکے تھے لیکن یاد رہا اک نام

جمیل الدین عالی




نیند کو روکنا مشکل تھا پر جاگ کے کاٹی رات
سوتے میں آ جاتے وہ تو نیچی ہوتی بات

جمیل الدین عالی




نا کوئی اس سے بھاگ سکے اور نا کوئی اس کو پائے
آپ ہی گھاؤ لگائے سمے اور آپ ہی بھرنے آئے

جمیل الدین عالی




نہ ترے سوا کوئی لکھ سکے نہ مرے سوا کوئی پڑھ سکے
یہ حروف بے ورق و سبق ہمیں کیا زبان سکھا گئے

جمیل الدین عالی




کیا کیا روگ لگے ہیں دل کو کیا کیا ان کے بھید
ہم سب کو سمجھانے والے کون ہمیں سمجھائے

جمیل الدین عالی




کچھ چھوٹے چھوٹے دکھ اپنے کچھ دکھ اپنے عزیزوں کے
ان سے ہی جیون بنتا ہے سو جیون بن جائے گا

جمیل الدین عالی




عالؔی اب کے کٹھن پڑا دیوالی کا تیوہار
ہم تو گئے تھے چھیلا بن کر بھیا کہہ گئی نار

جمیل الدین عالی




جانے کیوں لوگوں کی نظریں تجھ تک پہنچیں ہم نے تو
برسوں بعد غزل کی رو میں اک مضمون نکالا تھا

جمیل الدین عالی




اس دیوانی دوڑ میں بچ بچ جاتا تھا ہر بار
اک دوہا سو اسے بھی لے جا تو ہی خوش رہ یار

جمیل الدین عالی