EN हिंदी
امداد امام اثرؔ شیاری | شیح شیری

امداد امام اثرؔ شیر

28 شیر

پا رہا ہے دل مصیبت کے مزے
آئے لب پر شکوۂ بیداد کیا

امداد امام اثرؔ




خوب و زشت جہاں کا فرق نہ پوچھ
موت جب آئی سب برابر تھا

امداد امام اثرؔ




کچھ سمجھ کر اس مۂ خوبی سے کی تھی دوستی
یہ نہ سمجھے تھے کہ دشمن آسماں ہو جائے گا

امداد امام اثرؔ




لوگ جب تیرا نام لیتے ہیں
ہم کلیجے کو تھام لیتے ہیں

امداد امام اثرؔ




مر ہی کر اٹھیں گے تیرے در سے ہم
آ کے جب بیٹھے تو پھر اٹھ جائیں کیا

امداد امام اثرؔ




مفت بوسہ حسیں نہیں دیتے
دل جو دیتے ہیں دام لیتے ہیں

امداد امام اثرؔ




مشکل کا سامنا ہو تو ہمت نہ ہاریے
ہمت ہے شرط صاحب ہمت سے کیا نہ ہو

امداد امام اثرؔ




تمہارے عاشقوں میں بے قراری کیا ہی پھیلی ہے
جدھر دیکھو جگر تھامے ہوئے دو چار بیٹھے ہیں

امداد امام اثرؔ




تیری جانب سے مجھ پہ کیا نہ ہوا
خیر گزری کہ تو خدا نہ ہوا

امداد امام اثرؔ