پھر وہیں لوٹ کے جانا ہوگا
یار نے کیسی رہائی دی ہے
گلزار
تمہارے خواب سے ہر شب لپٹ کے سوتے ہیں
سزائیں بھیج دو ہم نے خطائیں بھیجی ہیں
گلزار
شام سے آنکھ میں نمی سی ہے
آج پھر آپ کی کمی سی ہے
گلزار
سہما سہما ڈرا سا رہتا ہے
جانے کیوں جی بھرا سا رہتا ہے
گلزار
رکے رکے سے قدم رک کے بار بار چلے
قرار دے کے ترے در سے بے قرار چلے
گلزار
رات گزرتے شاید تھوڑا وقت لگے
دھوپ انڈیلو تھوڑی سی پیمانے میں
گلزار
راکھ کو بھی کرید کر دیکھو
ابھی جلتا ہو کوئی پل شاید
گلزار
کتنی لمبی خاموشی سے گزرا ہوں
ان سے کتنا کچھ کہنے کی کوشش کی
گلزار
خاموشی کا حاصل بھی اک لمبی سی خاموشی تھی
ان کی بات سنی بھی ہم نے اپنی بات سنائی بھی
گلزار

