EN हिंदी
گلزار شیاری | شیح شیری

گلزار شیر

49 شیر

اسی کا ایماں بدل گیا ہے
کبھی جو میرا خدا رہا تھا

گلزار




رات گزرتے شاید تھوڑا وقت لگے
دھوپ انڈیلو تھوڑی سی پیمانے میں

گلزار




راکھ کو بھی کرید کر دیکھو
ابھی جلتا ہو کوئی پل شاید

گلزار




پھر وہیں لوٹ کے جانا ہوگا
یار نے کیسی رہائی دی ہے

گلزار




میں چپ کراتا ہوں ہر شب امڈتی بارش کو
مگر یہ روز گئی بات چھیڑ دیتی ہے

گلزار




کوئی خاموش زخم لگتی ہے
زندگی ایک نظم لگتی ہے

گلزار




کتنی لمبی خاموشی سے گزرا ہوں
ان سے کتنا کچھ کہنے کی کوشش کی

گلزار




خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں
ایک پرانا خط کھولا انجانے میں

گلزار




خاموشی کا حاصل بھی اک لمبی سی خاموشی تھی
ان کی بات سنی بھی ہم نے اپنی بات سنائی بھی

گلزار