ناصحا عاشقی میں رکھ معذور
کیا کروں عالم جوانی ہے
گویا فقیر محمد
نہ مر کے بھی تری صورت کو دیکھنے دوں گا
پڑوں گا غیر کی آنکھوں میں وہ غبار ہوں میں
گویا فقیر محمد
نہ ہوگا کوئی مجھ سا محو تصور
جسے دیکھتا ہوں سمجھتا ہوں تو ہے
گویا فقیر محمد
آسماں کہتے ہیں جس کو وہ زمین شعر ہے
ماہ نو مصرع ہے وصف ابروئے خم دار میں
گویا فقیر محمد
خون مرا کر کے لگانا نہ حنا میرے بعد
دست رنگیں نہ ہوں انگشت نما میرے بعد
گویا فقیر محمد
جامۂ سرخ ترا دیکھ کے گل
پیرہن اپنا قبا کرتے ہیں
گویا فقیر محمد
عطر مٹی کا لگایا چاہئے پوشاک میں
خاک سے رغبت رہے ملنا ہے اک دن خاک میں
گویا فقیر محمد
ہر گام پہ ہی سائے سے اک مصرع موزوں
گر چند قدم چلیے تو کیا خوب غزل ہو
گویا فقیر محمد
گیا ہے کوچۂ کاکل میں اب دل
مسلماں وارد ہندوستاں ہے
گویا فقیر محمد

