EN हिंदी
احسان دانش شیاری | شیح شیری

احسان دانش شیر

36 شیر

کچھ لوگ جو سوار ہیں کاغذ کی ناؤ پر
تہمت تراشتے ہیں ہوا کے دباؤ پر

احسان دانش




سنتا ہوں سرنگوں تھے فرشتے مرے حضور
میں جانے اپنی ذات کے کس مرحلے میں تھا

احسان دانش




تم سادہ مزاجی سے مٹے پھرتے ہو جس پر
وہ شخص تو دنیا میں کسی کا بھی نہیں ہے

احسان دانش




اٹھا جو ابر دل کی امنگیں چمک اٹھیں
لہرائیں بجلیاں تو میں لہرا کے پی گیا

احسان دانش




وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لئے
وہ ہنس پڑے مجھے مشکل میں ڈالنے کے لئے

احسان دانش




یہ کون ہنس کے صحن چمن سے گزر گیا
اب تک ہیں پھول چاک گریباں کئے ہوئے

احسان دانش




یہ اڑی اڑی سی رنگت یہ کھلے کھلے سے گیسو
تری صبح کہہ رہی ہے تری رات کا فسانہ

احسان دانش




یہ اجالوں کے جزیرے یہ سرابوں کے دیار
سحر‌ و افسوں کے سوا جشن طرب کچھ بھی نہیں

احسان دانش




ضبط بھی صبر بھی امکان میں سب کچھ ہے مگر
پہلے کم بخت مرا دل تو مرا دل ہو جائے

احسان دانش