EN हिंदी
بیخود دہلوی شیاری | شیح شیری

بیخود دہلوی شیر

71 شیر

نظر کہیں ہے مخاطب کسی سے ہیں دل میں
جواب کس کو ملا ہے سوال کس کا تھا

بیخود دہلوی




نہ دیکھنا کبھی آئینہ بھول کر دیکھو
تمہارے حسن کا پیدا جواب کر دے گا

بیخود دہلوی




نامہ بر یہ تو کہی بات پتے کی تو نے
ذکر اس بزم میں رہتا تو ہے اکثر اپنا

بیخود دہلوی




نمک بھر کر مرے زخموں میں تم کیا مسکراتے ہو
مرے زخموں کو دیکھو مسکرانا اس کو کہتے ہیں

بیخود دہلوی




نو گرفتار محبت ہوں وفا مجھ میں کہاں
کم سے کم دل ابھی سو بار تو آنے دیجے

بیخود دہلوی




قیامت ہے تری اٹھتی جوانی
غضب ڈھانے لگیں نیچی نگاہیں

بیخود دہلوی




راہ میں بیٹھا ہوں میں تم سنگ رہ سمجھو مجھے
آدمی بن جاؤں گا کچھ ٹھوکریں کھانے کے بعد

بیخود دہلوی




نہ دیکھے ہوں گے رند لاابالی تم نے بیخودؔ سے
کہ ایسے لوگ اب آنکھوں سے اوجھل ہوتے جاتے ہیں

بیخود دہلوی




پڑھے جاؤ بیخودؔ غزل پر غزل
وہ بت بن گئے ہیں سنے جائیں گے

بیخود دہلوی