EN हिंदी
بقا اللہ بقاؔ شیاری | شیح شیری

بقا اللہ بقاؔ شیر

25 شیر

مت تنگ ہو کرے جو فلک تجھ کو تنگ دست
آہستہ کھینچیے جو دبے زیر سنگ دست

بقا اللہ بقاؔ




عشق نے منصب لکھے جس دن مری تقدیر میں
داغ کی نقدی ملی صحرا ملا جاگیر میں

بقا اللہ بقاؔ




کعبہ تو سنگ و خشت سے اے شیخ مل بنا
کچھ سنگ بچ رہا تھا سو اس بت کا دل بنا

بقا اللہ بقاؔ




کل کے دن جو گرد مے خانے کے پھرتے تھے خراب
آج مسجد میں جو دیکھا صاحب سجادہ ہیں

بقا اللہ بقاؔ




خال لب آفت جاں تھا مجھے معلوم نہ تھا
دام دانے میں نہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا

بقا اللہ بقاؔ




خواہش سود تھی سودے میں محبت کے ولے
سر بسر اس میں زیاں تھا مجھے معلوم نہ تھا

بقا اللہ بقاؔ




کیا تجھ کو لکھوں خط حرکت ہاتھ سے گم ہے
خامہ بھی مرے ہاتھ میں انگشت ششم ہے

بقا اللہ بقاؔ




سیلاب سے آنکھوں کے رہتے ہیں خرابے میں
ٹکڑے جو مرے دل کے بستے ہیں دو آبے میں

بقا اللہ بقاؔ




یہ رند دے گئے لقمہ تجھے تو عذر نہ مان
ترا تو شیخ تنور و شکم برابر ہے

بقا اللہ بقاؔ