EN हिंदी
انجم سلیمی شیاری | شیح شیری

انجم سلیمی شیر

72 شیر

میری مٹی سے بہت خوش ہیں مرے کوزہ گر
ویسا بن جاتا ہوں میں جیسا بناتے ہیں مجھے

انجم سلیمی




میں جس چراغ سے بیٹھا تھا لو لگائے ہوئے
پتہ چلا وہ اندھیرے میں رکھ رہا تھا مجھے

انجم سلیمی




میں خود سے مل کے کبھی صاف صاف کہہ دوں گا
مجھے پسند نہیں ہے مداخلت اپنی

انجم سلیمی




میں سب کا سب محبت کے لیے ہوں
سو لا محدود مدت کے لیے ہوں

انجم سلیمی




میرے چہرے پہ ہیں آنکھیں مرے سینے میں ہے دل
اس لیے تیری حفاظت نہیں کر سکتا میں

انجم سلیمی




مجھ سے خالی ہے میرا آئینہ
آنسوؤں سے بھرا ہوا ہوں میں

انجم سلیمی




مجھے پتہ ہے کہ برباد ہو چکا ہوں میں
تو میرا سوگ منا مجھ کو سوگوار نہ کر

انجم سلیمی




میں ایک ایک تمنا سے پوچھ بیٹھا ہوں
مجھے یقیں نہیں آتا کہ میرا سب ہے تو

انجم سلیمی




مٹ کے آسودہ ہو گیا ہوں میں
خاک میں خاک زاد مل گیا ہے

انجم سلیمی