EN हिंदी
الطاف حسین حالی شیاری | شیح شیری

الطاف حسین حالی شیر

43 شیر

صدا ایک ہی رخ نہیں ناؤ چلتی
چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی

الطاف حسین حالی




قلق اور دل میں سوا ہو گیا
دلاسا تمہارا بلا ہو گیا

الطاف حسین حالی




قیس ہو کوہ کن ہو یا حالیؔ
عاشقی کچھ کسی کی ذات نہیں

الطاف حسین حالی




مجھے کل کے وعدے پہ کرتے ہیں رخصت
کوئی وعدہ پورا ہوا چاہتا ہے

الطاف حسین حالی




منہ کہاں تک چھپاؤ گے ہم سے
تم میں عادت ہے خود نمائی کی

الطاف حسین حالی




ماں باپ اور استاد سب ہیں خدا کی رحمت
ہے روک ٹوک ان کی حق میں تمہارے نعمت

الطاف حسین حالی




کیوں بڑھاتے ہو اختلاط بہت
ہم کو طاقت نہیں جدائی کی

الطاف حسین حالی




کچھ ہنسی کھیل سنبھلنا غم ہجراں میں نہیں
چاک دل میں ہے مرے جو کہ گریباں میں نہیں

الطاف حسین حالی




کہتے ہیں جس کو جنت وہ اک جھلک ہے تیری
سب واعظوں کی باقی رنگیں بیانیاں ہیں

الطاف حسین حالی