منہ کہاں تک چھپاؤ گے ہم سے
تم میں عادت ہے خود نمائی کی
الطاف حسین حالی
رونا ہے یہ کہ آپ بھی ہنستے تھے ورنہ یاں
طعن رقیب دل پہ کچھ ایسا گراں نہ تھا
الطاف حسین حالی
راہ کے طالب ہیں پر بے راہ پڑتے ہیں قدم
دیکھیے کیا ڈھونڈھتے ہیں اور کیا پاتے ہیں ہم
الطاف حسین حالی
قلق اور دل میں سوا ہو گیا
دلاسا تمہارا بلا ہو گیا
الطاف حسین حالی
قیس ہو کوہ کن ہو یا حالیؔ
عاشقی کچھ کسی کی ذات نہیں
الطاف حسین حالی
مجھے کل کے وعدے پہ کرتے ہیں رخصت
کوئی وعدہ پورا ہوا چاہتا ہے
الطاف حسین حالی
کیوں بڑھاتے ہو اختلاط بہت
ہم کو طاقت نہیں جدائی کی
الطاف حسین حالی
کہتے ہیں جس کو جنت وہ اک جھلک ہے تیری
سب واعظوں کی باقی رنگیں بیانیاں ہیں
الطاف حسین حالی
کچھ ہنسی کھیل سنبھلنا غم ہجراں میں نہیں
چاک دل میں ہے مرے جو کہ گریباں میں نہیں
الطاف حسین حالی

