مٹ چلے میری امیدوں کی طرح حرف مگر
آج تک تیرے خطوں سے تری خوشبو نہ گئی
اختر شیرانی
مجھے ہے اعتبار وعدہ لیکن
تمہیں خود اعتبار آئے نہ آئے
اختر شیرانی
مجھے دونوں جہاں میں ایک وہ مل جائیں گر اخترؔ
تو اپنی حسرتوں کو بے نیاز دو جہاں کر لوں
اختر شیرانی
مدتیں ہو گئیں بچھڑے ہوئے تم سے لیکن
آج تک دل سے مرے یاد تمہاری نہ گئی
اختر شیرانی
مبارک مبارک نیا سال آیا
خوشی کا سماں ساری دنیا پہ چھایا
اختر شیرانی
محبت کے اقرار سے شرم کب تک
کبھی سامنا ہو تو مجبور کر دوں
اختر شیرانی
کوچۂ حسن چھٹا تو ہوئے رسوائے شراب
اپنی قسمت میں جو لکھی تھی وہ خواری نہ گئی
اختر شیرانی
کچھ اس طرح سے یاد آتے رہے ہو
کہ اب بھول جانے کو جی چاہتا ہے
اختر شیرانی
کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتا
تم نہ ہوتے نہ سہی ذکر تمہارا ہوتا
اختر شیرانی

