EN हिंदी
ادا جعفری شیاری | شیح شیری

ادا جعفری شیر

41 شیر

خزینے جاں کے لٹانے والے دلوں میں بسنے کی آس لے کر
سنا ہے کچھ لوگ ایسے گزرے جو گھر سے آئے نہ گھر گئے ہیں

ادا جعفری




لوگ بے مہر نہ ہوتے ہوں گے
وہم سا دل کو ہوا تھا شاید

ادا جعفری




کچھ اتنی روشنی میں تھے چہروں کے آئنہ
دل اس کو ڈھونڈھتا تھا جسے جانتا نہ تھا

ادا جعفری




کوئی طائر ادھر نہیں آتا
کیسی تقصیر اس مکاں سے ہوئی

ادا جعفری




کوئی بات خواب و خیال کی جو کرو تو وقت کٹے گا اب
ہمیں موسموں کے مزاج پر کوئی اعتبار کہاں رہا

ادا جعفری




کن منزلوں لٹے ہیں محبت کے قافلے
انساں زمیں پہ آج غریب الوطن سا ہے

ادا جعفری




خامشی سے ہوئی فغاں سے ہوئی
ابتدا رنج کی کہاں سے ہوئی

ادا جعفری




کانٹا سا جو چبھا تھا وہ لو دے گیا ہے کیا
گھلتا ہوا لہو میں یہ خورشید سا ہے کیا

ادا جعفری




کٹتا کہاں طویل تھا راتوں کا سلسلہ
سورج مری نگاہ کی سچائیوں میں تھا

ادا جعفری