EN हिंदी
عازم کوہلی شیاری | شیح شیری

عازم کوہلی شیر

21 شیر

مرے ہر زخم پر اک داستاں تھی اس کے ظلموں کی
مرے خوں بار دل پر اس کے ہاتھوں کا نشاں بھی تھا

عازم کوہلی




میں جی بھر کے رویا تو آرام آیا
مرا غم ہی آخر مرے کام آیا

عازم کوہلی




آدمی کو چاہئے توفیق چلنے کی فقط
کچھ نہیں تو گزرے وقتوں کا دھواں لے کر چلے

عازم کوہلی




کون باندھے گا مری بکھری ہوئی امید کو
کھل رہا ہے اب تو ہر حلقہ مری زنجیر کا

عازم کوہلی




جو ہوا جیسا ہوا اچھا ہوا
جب جہاں جو ہو گیا اچھا ہوا

عازم کوہلی




ہم نے مل جل کے گزارے تھے جو دن اچھے تھے
لمحے وہ پھر سے جو آتے تو بہت اچھا تھا

عازم کوہلی




ہم لکیریں کرید کر دیکھیں
رنگ لائے گا کیا یہ سال نیا

عازم کوہلی




دکھ پہ میرے رو رہا تھا جو بہت
جاتے جاتے کہہ گیا اچھا ہوا

عازم کوہلی




دیکھنا کیسے پگھلتے جاؤ گے
جب مری آغوش میں تم آؤ گے

عازم کوہلی