آج بھی گاؤں میں کچھ کچے مکانوں والے
گھر میں ہمسائے کے فاقہ نہیں ہونے دیتے
معراج فیض آبادی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
جو کہہ رہے تھے کہ جینا محال ہے تم بن
بچھڑ کے مجھ سے وہ دو دن اداس بھی نہ رہے
معراج فیض آبادی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
مجھ کو تھکنے نہیں دیتا یہ ضرورت کا پہاڑ
میرے بچے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے
the mountain of my needs prevents me from being tired
my children don't permit me to be old and retired
معراج فیض آبادی
ٹیگز:
| 4 لائنیں شیاری |
پیاس کہتی ہے چلو ریت نچوڑی جائے
اپنے حصے میں سمندر نہیں آنے والا
معراج فیض آبادی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
یوں ہوا پھر بند کر لیں اس نے آنکھیں ایک دن
وہ سمجھ لیتا تھا دل کا حال چہرہ دیکھ کر
معراج فیض آبادی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |