EN हिंदी
معراج فیض آبادی شیاری | شیح شیری

معراج فیض آبادی شیر

5 شیر

آج بھی گاؤں میں کچھ کچے مکانوں والے
گھر میں ہمسائے کے فاقہ نہیں ہونے دیتے

معراج فیض آبادی




جو کہہ رہے تھے کہ جینا محال ہے تم بن
بچھڑ کے مجھ سے وہ دو دن اداس بھی نہ رہے

معراج فیض آبادی




مجھ کو تھکنے نہیں دیتا یہ ضرورت کا پہاڑ
میرے بچے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے

the mountain of my needs prevents me from being tired
my children don't permit me to be old and retired

معراج فیض آبادی




پیاس کہتی ہے چلو ریت نچوڑی جائے
اپنے حصے میں سمندر نہیں آنے والا

معراج فیض آبادی




یوں ہوا پھر بند کر لیں اس نے آنکھیں ایک دن
وہ سمجھ لیتا تھا دل کا حال چہرہ دیکھ کر

معراج فیض آبادی