EN हिंदी
زندگی موت کا آئینہ | شیح شیری
zindagi maut ka aaina

نظم

زندگی موت کا آئینہ

اصغر ندیم سید

;

جیسی زندگی ہم گزارتے ہیں ویسی موت ہمیں ملتی ہے
ہم بزدل آدمی کی زندگی گزارتے ہیں

تو ہمیں موت بھی ویسی ہی بزدل نصیب ہوتی ہے
ہم خوب صورت زندگی جیتے ہیں

تو موت بھی خوب صورت ملتی ہے
ہم محبت کی زندگی گزارتے ہیں

تو موت بھی محبوبہ کی طرح ہمیں ملتی ہے
انسان نے ہر شے کو گدلا کیا ہے

ہر قیمتی آدرش کو میلا کیا ہے
ہر لفظ کو بے معنی کیا ہے

اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے
لیکن انسان موت کو گدلا نہیں کر سکا

میلا نہیں کر سکا
بے معنی نہیں کر سکا

مسخ نہیں کر سکا
موت سے زیادہ خالص شے دنیا میں نہیں ہے

اس سے زیادہ با معنی شے موجود نہیں ہے
مگر میں کیوں ایسا کہہ رہا ہوں

مجھے تو ایک بہت ہی خوب صورت زندگی بسر کرنی ہے
محبت سے لبریز

رقص کرتی ہوئی زندگی
جس میں رقاص غائب ہو جاتا ہے

اور صرف رقص باقی رہتا ہے
مجھے ایک بے حد لذت بھری

رسیلی زندگی سے گلے ملنا ہے
تاکہ میری موت بھی خوب صورت ہو