میں تھا آوارہ و برجستہ خرام
اوراق بندگی اس کی پناہ
نامۂ عشق تھا رشتوں کا جواز
برق رو میں بھی تھا کچھ وہ بھی رہا
عشق احساس جنوں کے آثار
کچھ عجب طرح بنے نقش و نگار
فرط جذبات سے
اس درجہ رہے ہم لرزاں
تیسری قوت وسواس کہاں سے آئی
اور
پھر ٹوٹ گیا
لرزہ بر اندام تعلق کا پل
سبز ارمانوں پہ
وہ اوس پڑی مت پوچھو
اب تو وہ
صحن تخیل بھی ہے مدت سے اداس
گاہے گاہے
کسی پہلوئے فلک میں جاناں
کچھ چمن زار مہک اٹھتے ہیں
اور
آتی ہے صدائے بلبل
عشق وہ اوس کا قطرہ ہے
جس کے پڑتے ہی
ٹوٹ جاتی ہے صراحی گل کی
نظم
نوحۂ جاں
خورشید اکبر