EN हिंदी
نارسا | شیح شیری
na-rasa

نظم

نارسا

عادل حیات

;

مجھے برباد کرنے میں
مزہ آیا تو کچھ ہوگا

سیاہی پوت دی تقدیر پر
لا کر مجھے تاریکیوں کے غار میں چھوڑا

جہاں میں ساتھ اک اک سانس کے
مقدور بھر کوشش کئے جاتا ہوں لیکن

مجھے ملتی نہیں ہے راہ جس پر
میں قدم آگے بڑھاؤں

اپنے حصے کی
وہ چیزیں چھین لوں

جن کو
چھپا کر میری آنکھوں سے

مرے ہی واسطے رکھا گیا ہے