میں نہیں ہوں مگر
اب بھی کھلتے ہیں کھڑکی کے دائیں طرف
پھول بل کھائی الجھی ہوئی بیل پر
زندگی کے کسی فیصلے کی
گھڑی سے الجھتے ہوئے
میں کھرچتا رہا تھا یہ روغن
جمی ہے یہاں آج تک
ننھے دھبے میں اک
بے کلی میرے احساس کی
اور قالین پر
میری پیالی سے چھلکی ہوئی
چائے کا اک پرانا نشاں
اب بھی تکتا ہے مٹیالی آنکھوں سے
چھت کی طرف
آج بھی ہیں پڑی شیلف پر
جو کتابیں خریدی تھیں
میں نے بہت پیار سے
آج بھی ہیں جڑے
کاغذوں کے حسیں آئینوں میں
مری سوکھی پوروں سے پھوٹے ہوئے
کالے حرفوں کے چہرے عجب شان سے
میں تو حیران ہوں
مجھ سے منسوب ہر ایک شے
جوں کی توں ہے تو کیا
ایک میں ہی تھا جو
ایک میں ہی تھا پانی کے
سینے پہ رکھا ہوا نقش جو
پل دو پل کو بنا اور مٹ بھی گیا
نظم
میں نہیں ہوں مگر
گلناز کوثر