خواب کی طرح سے ہے یاد کہ تم آئے تھے
جس طرح دامن مشرق میں سحر ہوتی ہے
ذرے ذرے کو تجلی کی خبر ہوتی ہے
اور جب نور کا سیلاب گزر جاتا ہے
رات بھر ایک اندھیرے میں بسر ہوتی ہے
کچھ اسی طرح سے ہے یاد کہ تم آئے تھے
جیسے گلشن میں دبے پاؤں بہار آتی ہے
پتی پتی کے لیے لے کے نکھار آتی ہے
اور پھر وقت وہ آتا ہے کہ ہر موج صبا
اپنے دامن میں لیے گرد و غبار آتی ہے
کچھ اسی طرح سے ہے یاد کہ تم آئے تھے
جس طرح محو سفر ہو کوئی ویرانے میں
اور رستے میں کہیں کوئی خیاباں آ جائے
چند لمحوں میں خیاباں کے گزر جانے پر
سامنے پھر وہی دنیائے بیاباں آ جائے
کچھ اسی طرح سے ہے یاد کہ تم آئے تھے
نظم
خواب کی طرح سے یاد ہے
جگن ناتھ آزادؔ