زمانہ کتنا بدل گیا ہے
مقام رشتوں کا مٹ رہا ہے
کہیں محبت کا روپ دھارے
کہیں سلگتے یہ نفرتوں سے
کہیں پہ آنکھوں میں ریت بن کر
چبھن کی صورت رلا رہے ہیں
کہیں یہ برقی پیام بن کر
ہزار میلوں پہ چھائی دوری کے بادلوں کو ہٹا رہے ہیں
دلوں کی دھڑکن بڑھا رہے ہیں
روایتوں کو بدل رہے ہیں
وفا کے دھاگے جفا سے ہر دم الجھ رہے ہیں
اداس لمحے خوشی و حیرت کی ساری گھڑیاں
دلوں سے باہر نکل کے دیوار کا نوشتہ
محبت ازلی عظیم رشتہ
جو لاکھوں پردوں میں جگمگاتا تھا
اب اسٹیٹس پہ اشتہا کی خبر کی صورت بدل رہا ہے
کوئی بھی جذبہ کوئی بھی رشتہ
نہ مستقل ہے نہ معتبر ہے
پلک جھپکنے میں بدلے منظر
کہ جیسے کوئی جہان زادی تعلق اپنا بدل رہی ہو
نئی کوئی چال چل رہی ہو
جنوں کی اگلی جو منزلیں ہیں
وہاں پہ تصویریں آویزاں ہیں
دبی دبی مسکراہٹیں ہیں
گھٹی گھٹی سنسناہٹیں ہیں
جنون احساس اور محبت
وقار اپنا مٹا رہی ہیں
بتا رہی ہیں
زمانہ کتنا بدل گیا ہے
نظم
جہان زادی کا اسٹیٹس
میمونہ عباس خان