ابوبکر عباد
جہاں ہم لوگ رہتے ہیں
وہاں اچھے بھلے لکھے پڑھے ہی لوگ بستے ہیں
عمارت علم اور دولت کی عظمت حسن کو دوبالا کرتی ہے
تبسم مسکراہٹ ہائے ہیلو اور بظاہر خوش دلی کی بارش ہوتی ہے
کہ جس تیزی سے یاں فیشن بدلتا ہے
غرور حسن اور
ذہن و دل کی ساخت بھی تبدیل ہوتی ہے
رذالت بزدلی اور عصبیت کو یاں
عمدہ کپڑوں اچھے چہروں میں چھپاتے ہیں
مگر جب گاؤں جاتے ہیں
وہاں کے کچے گھر کھیتوں میں باغوں میں ذرا آرام کرتے ہیں
اچھلتے کودتے بچوں کو آزادی سے مرد و زن کو ہنستے بولتے جب دیکھ آتے ہیں
کہ ہر غم اور خوشی اچھےبرے حالات میں وہ سچے دل سے ساتھ رہتے ہیں
نہ اپنے ظاہر و باطن میں کوئی بھید رکھتے ہیں
جو نفرت ہے تو نفرت ہے محبت دل سے کرتے ہیں
کہ من میں جو بھی ہوتا ہے زباں سے صاف کہتے ہیں
مگر پھر لوٹ کر جب شہر آتے ہیں
امیروں عالموں اور افسروں کے بیچ رہتے ہیں
تو یہ محسوس ہوتا ہے
کہ ہم بیمار ہیں لاچار ہیں تنہا اور قلاش ہیں
جہاں ہم لوگ رہتے ہیں
وہاں سارے ہی ایسے لوگ بستے ہیں
نظم
جہاں ہم لوگ رہتے ہیں
ابو بکر عباد