EN हिंदी
گلشن نا آفریدہ | شیح شیری
gulshan-e-na-afrida

نظم

گلشن نا آفریدہ

شہناز نبی

;

بدن کے جھروکے میں جتنی نگاہیں لگی ہیں
مری ہیں

کوئی اور کب سوچتا ہے
کہ غم خانۂ میرؔ کے اس طرف

ایک ہنستا مہکتا باغیچہ بھی ہے
کتنی ان چھوئی کلیاں

جواں تتلیاں
رس بھری جھومتی ڈالیاں

سوندھی مٹی کی ہم جنس خوشبو
لبالب سی اک باؤلی

جانے کیا کچھ
مگر وہ جھروکہ

کہ جس کا مرے دل سے اک واسطہ ہے
ابھی بند ہے

کام نازک ہے آفاق کی کارگہ کا