EN हिंदी
چند روز اور مری جان فقط چند ہی روز | شیح شیری
chand roz aur meri jaan faqat chand hi roz

نظم

چند روز اور مری جان فقط چند ہی روز

صوفی تبسم

;

زندگی ہے تو کوئی بات نہیں ہے اے دوست
زندگی ہے تو بدل جائیں گے یہ لیل و نہار

یہ شب و روز، مہ و سال گزر جائیں گے
ہم سے بے مہر زمانے کی نظر کے اطوار

آج بگڑے ہیں تو اک روز سنور جائیں گے
فاصلوں، مرحلوں راہوں کی جدائی کیا ہے

دل ملے ہیں تو نگاہوں کی جدائی کیا ہے
کلفت زیست سے انسان پریشاں ہی سہی

زیست آشوب غم مرگ کا طوفاں ہی سہی
مل ہی جاتا ہے سفینوں کو کنارا آخر

زندگی ڈھونڈ ہی لیتی ہے سہارا آخر
اک نہ اک روز شب غم کی سحر بھی ہوگی

زندگی ہے تو مسرت سے بسر بھی ہوگی
زندگی ہے تو کوئی بات نہیں ہے اے دوست!