ابھی
کچھ خراشیں ہیں چہرے پہ میرے
ابھی وقت کے
سخت ناخن کی یادیں
ستاتی ہیں مجھ کو ڈراتی ہیں مجھ کو
میاں
موم خوابوں کی میرے پگھلتی نہ کیسے
مری سمت سورج اچھالا گیا تھا
میں شعلوں کی دلدل میں دھنسنے لگا تھا
مرے دست و پا سب جھلسنے لگے تھے
بہت شور مجھ میں اٹھا تھا
ہر اک شے سماعت سے خالی
مجھے گھورتی تھی
نظر میں کوئی راستہ ہی نہیں تھا
کسی سے کوئی واسطہ ہی نہیں تھا
اچانک کسی نے پکارا تھا مجھ کو
اٹھو صبح ہونے لگی ہے
صبا باغ میں رنگ بونے لگی ہے
ہوا کے دریچے مہکنے لگے ہیں
مناظر فضا کے چمکنے لگے ہیں
مگر یہ صداقت ہے امجدؔ
ابھی کچھ خراشیں ہیں چہرے پہ میرے
ابھی آئنہ مضمحل ہے
ابھی آئنہ مضمحل ہے
نظم
ابھی آئنہ مضمحل ہے
غفران امجد