EN हिंदी
زلف کا کیا اس کی چٹکا لگ گیا | شیح شیری
zulf ka kya uski chaTka lag gaya

غزل

زلف کا کیا اس کی چٹکا لگ گیا

شاہ نصیر

;

زلف کا کیا اس کی چٹکا لگ گیا
زور دل کے ہاتھ لٹکا لگ گیا

تار مژگاں پر چلا جاتا ہے اشک
کام پر لڑکا یہ نٹ کا لگ گیا

چشم و ابرو پر نہیں موقوف کچھ
جان من دل جس کا اٹکا لگ گیا

جام گل میں کیوں نہ دے شبنم گلاب
صبح دم غنچے کو چٹکا لگ گیا

منزل گم کردہ اک میں ہوں نصیرؔ
راہ سے جو کوئی بھٹکا لگ گیا