EN हिंदी
ضعف آتا ہے دل کو تھام تو لو | شیح شیری
zoaf aata hai dil ko tham to lo

غزل

ضعف آتا ہے دل کو تھام تو لو

انشاءؔ اللہ خاں

;

ضعف آتا ہے دل کو تھام تو لو
بولیو مت بھلا سلام تو لو

کون کہتا ہے بولو مت بولو
ہاتھ سے میرے ایک جام تو لو

ہم صفیرو چھٹو گے مت تڑپو
دم ابھی آ کے زیر دام تو لو

انہیں باتوں پہ لوٹتا ہوں میں
گالی پھر دے کے میرا نام تو لو

اک نگہ پر بکے ہے انشاؔ آج
مفت میں مول اک غلام تو لو