EN हिंदी
زندگی تجھ پہ گراں ہے تو مرے گا کیسے | شیح شیری
zindagi tujh pe giran hai tu marega kaise

غزل

زندگی تجھ پہ گراں ہے تو مرے گا کیسے

شہرت بخاری

;

زندگی تجھ پہ گراں ہے تو مرے گا کیسے
جس کو رونا نہیں آتا وہ ہنسے گا کیسے

میری آنکھوں میں کوئی اشک نہ ہونٹوں پہ غزل
داستان غم دل کوئی سنے گا کیسے

ہاتھ شل ہو گئے دل درد سے محروم ہوا
پردہ چھوڑا ہے جو اس نے وہ ہٹے گا کیسے

کیسا نادان ہے تو جب مرا دل توڑا تھا
یہ نہ سوچا کہ تجھے یاد کرے گا کیسے

آستاں چھوڑ کے تیرا میں کہیں کا نہ رہا
بیٹھنا آئے نہ جس کو وہ چلے گا کیسے

اب کے شہرت کو خبر ہے تری بد خوئی کی
مرثیہ دل کا ترے آگے پڑے گا کیسے