EN हिंदी
زندگی سے ایک دن موسم خفا ہو جائیں گے | شیح شیری
zindagi se ek din mausam KHafa ho jaenge

غزل

زندگی سے ایک دن موسم خفا ہو جائیں گے

احمد مشتاق

;

زندگی سے ایک دن موسم خفا ہو جائیں گے
رنگ گل اور بوئے گل دونوں ہوا ہو جائیں گے

آنکھ سے آنسو نکل جائیں گے اور ٹہنی سے پھول
وقت بدلے گا تو سب قیدی رہا ہو جائیں گے

پھول سے خوشبو بچھڑ جائے گی سورج سے کرن
سال سے دن وقت سے لمحے جدا ہو جائیں گے

کتنے پر امید کتنے خوبصورت ہیں یہ لوگ
کیا یہ سب بازو یہ سب چہرے فنا ہو جائیں گے