EN हिंदी
زندگی میں کسی رخ کا کسی دکھ کا ہونا | شیح شیری
zindagi mein kisi ruKH ka kisi dukh ka hona

غزل

زندگی میں کسی رخ کا کسی دکھ کا ہونا

خالد احمد

;

زندگی میں کسی رخ کا کسی دکھ کا ہونا
اچھا ہوتا ہے سفر میں کوئی اپنا ہونا

درد بھی موج کے مانند سفر کرتے ہیں
اچھا رہتا ہے پلک پر کوئی تارا ہونا

ٹھوکریں مارنے لگتا ہے لہو نس نس میں
کتنا دشوار ہے تیرا مرا اپنا ہونا

ایک ہم ہیں کہ ترے ہو کے بھی آوارہ ہیں
اپنی تقدیر ہے آوازۂ صحرا ہونا

کارگر کون رہا کار وفا میں خالدؔ
کس کی قسمت میں ہے فرہاد کا تیشہ ہونا