زندگی میں کسی رخ کا کسی دکھ کا ہونا
اچھا ہوتا ہے سفر میں کوئی اپنا ہونا
درد بھی موج کے مانند سفر کرتے ہیں
اچھا رہتا ہے پلک پر کوئی تارا ہونا
ٹھوکریں مارنے لگتا ہے لہو نس نس میں
کتنا دشوار ہے تیرا مرا اپنا ہونا
ایک ہم ہیں کہ ترے ہو کے بھی آوارہ ہیں
اپنی تقدیر ہے آوازۂ صحرا ہونا
کارگر کون رہا کار وفا میں خالدؔ
کس کی قسمت میں ہے فرہاد کا تیشہ ہونا
غزل
زندگی میں کسی رخ کا کسی دکھ کا ہونا
خالد احمد

